امر بہائی اور انسانی حقوق

امر بہائی کے بانی حضرت بہاءاللہ(۱۸۱۷۔۱۸۹۲) نے،۱۹۴۸میں انسانی حقوق کا عالمی منشور[i]کے اختیار کئے جانے سے کوئی اَسّی سال پہلے  انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے ایک عالمگیر سمجھوتے کی دعوت دی تھی۔ آپ نے یہ تعلیم دی کہ ’’انسانی حقوق کے‘‘ ایک ’’مساوی معیار کو تسلیم کرنا اور اسے اختیار کرنا لازم ہے۔‘‘[ii]  حضرت بہاءاللہ نے حکومتوں کو تاکید کی کہ وہ اپنے عوام کے انسانی حقوق کی حفاظت کریں اور ان کی فلاح و بہبود کو یقینی بنائیں۔ آپ نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ  انسانی حقوق کی حفاظت کے لئے ایک عالمی دولت مشترکہ قائم کریں  جس میں اجتماعی تحفظ کا ایک نظام  موجود ہو جو  ظلم و استبداد سے عوام کو بچا سکے۔[iii]

انسانی حقوق کے لئے خدائی بنیاد

بہائی تحریریں واضح کرتی ہیں کہ انسانی حقوق صرف کوئی سیاسی یا سماجی تصور نہیں جو حکومتوں کے تسلیم کئے جانے کی محتاج ہو۔ بلکہ بہائی نقطہ نظر یہ ہے کہ حکومت ہو یا نہ ہو انسانی حقوق موجود ہیں؛ در حقیقت وہ ایک دائی عطیہ ہے جو سب انسانوں کی اس  پیدائشی صلاحیت سے پھوٹتا ہے کہ وہ خدا ئی صفات کو منعکس کر سکے۔ اسی وجہ سے سب انسان ایک مساوی روحانی وقار کے مالک ہیں۔[iv]  پس حکومتوں پر یہ اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس خدائی عطیہ  کا احترام کریں جو ایک ایسا فرض ہے  جو کسی معاہدہ یا روایتی قانونی رسم  کی غیر موجودگی میں بھی موجود رہے گا۔ حضرت بہاءاللہ نے حکمرانوں  پر یہ ذمہ داری عائد کی: ’’تو کیا ظالم کے ظلم کو روکنا  اور اپنی رعا یہ کے ساتھ انصاف کا سلوک کرنا تمہاری واضح ذمہ داری نہیں  تاکہ  تمہارے انصاف کے بلند احساس کو پوری نسل انسانی کے سامنے دکھایا جا سکے؟ خدا نے تمہارے ہاتھوں میں لوگوں کی حکومت کی باگ ڈور دی ہے ، تاکہ تم انصاف کے ساتھ  ان پر حکمرانی کرو، مظلوموں کے حقوق کی حفاظت کرو، اور ظالموں کو سزا دو۔‘‘[v]  یہ  خدا کی طرف سے عائد کردہ  ایسی ذمہ دار یاں ہیں جن سے کوئی حکومت جائز طور پہلو تہی نہیں کرسکتی۔[vi] حضرت بہاءاللہ یہ بھی سکھاتے ہیں کہ اس مساوی روحانی وقار کی وجہ سے سب انسان ایک ہی انسانی گھرانے کے ارکان ہیں جنہیں متحد ہونا چاہئے۔ یعنی سب کو ایک دوسرے سے بھائیوں اور بہنوں جیسا سلوک کرنا چاہئے،اور درحقیقت صرف مساوی لوگوں کی طرح نہیں بلکہ روحانی رشتہ داروں کی طرح دوسرے انسانوں کے حقوق کا احترام  کرنا چاہئے۔ آپ اعلان کرتے ہیں، ’’تم ایک درخت کے پھل، اورایک شاخ کے پتّے ہو۔‘‘[vii]  بہائی تعلیمات کے مطابق انسانی حقوق کے مکمل حصول کے لئے اس بنیادی تعلق کی شناخت ایک پہلی شرط ہے۔ اس بارے میں حضرت بہاءاللہ زور دے کر کہتے ہیں: ’’نوع بشر کی فلاح و بہبود، اس کا امن و تحفظ اُس وقت تک ناقابل حصول ہے جب تک اس کا اتحاد مضبوطی سے قائم نہیں ہو جاتا۔‘‘[viii] انسانی حقوق کی جڑیں جب تک انسانی وحدت کی ایسی ایک قدردانی میں پیوست نہیں ہوں گی یہ  محض ایک اخلاقی طور پر قابل تعریف تصور سے زیادہ کچھ نہیں رہے گا۔  وحدت  دوسروں کے حقوق کی حفاظت کے لئے قوت،شوق،اور ارادہ پیدا کرتی ہے۔ اور اس سے مراد یہ ہے کہ انسانی حقوق  سے ہر ایک کا تعلق ہے نہ صرف حکومتوں کا۔’’[ix]

 پس منظر

بہائی داروں نے اپنی نشریات میں انسانی حقوق کی اصطلاح کا استعمال اقوام متحدہ کے قیام کے بعد ہی اس کے ساتھ اپنی رسمی تعلقات کے آغاز  سے شروع کیا۔ ۱۸۴۷ اور۱۹۴۸میں اس نوزائدہ  بین الاقوامی تنظیم کے سامنے انسانی حقوق کے عالمی منشور کی تیاری کے کام میں  مدد کے طور پر پیش کی جانے  والی دستاویزوں میں سے تین انسانی حقوق کی مختلف پہلوؤں کے بارے میں تھیں۔ ان میں سے پہلی دستاویز تھی ایک آٹھ صفحات پر مشتمل دستاویز بہ عنوان ’’انسانی فرائض و حقوق کا ایک بہائی اعلان۔‘‘ [x] جو۱۹۴۷میں آٹھ ملی بہائی انتظامی اداروں[xi] کی طرٖ ف سے انسانی حقوق کمیشن[xii] کو پیش کی گئی۔ بہائی انٹرنیشنل کمیونٹی واضح کرتی ہے کہ انسانی حقوق کے بارے میں فکر مندی پوری بہائی تحریروں میں ملتی ہے۔ حضرت بہاء اللہ نے زمین کے حکمرانوں کو’’انصاف سے حکمرانی‘‘ کرنے ’’۔۔۔ مظلوموں کے حقوق کی حفاظت ۔۔(کرنے) اور ظالموں کو ۔۔۔‘‘روکنے[xiii] کی تاکید کی ہے۔  آپ نے تعلیم دی ہے کہ ’’پوری نوع بشر کے لئے انسانی حقوق و استحقاق کی ایک مساوات ہو گی۔‘‘[xiv]

حضرت بہاءاللہ کی تعلیمات کے بااخیارمفسرجناب شوقی آفندی فرماتے ہیں کہ:’’حضرت بہاءاللہ نے وحدت عالم انسانی کا جو تصور پیش کیا ہے وہ اس بات پر دلا لت کرتا ہے کہ ایک ایسے عالمی  دولت مشترکہ کا قیام عمل میں لایا جائے جس میں۔۔۔۔اس کے ممبر ممالک کی خود مختاری اور افراد کی ،جن سے ملکر یہ بنی ہے، انفرادی و عملی آزادی کو مکمل اور یقینی تحفظ فراہم کیا جائے۔ جہاں تک ہم تصور کر سکتے ہیں اس دولت مشترکہ  میں ایک عالمی مقننہ کا ہونا لازم ہے جس کے ارکان کل نوع نشر کے امینوں کی حیثیت میں بالآخر تمام متحدہ قوموں کے تمام وسائل پر کنٹرول کریں گے۔ اور ایسے قوانین بنائیں گے جو زندگی میں باقاعدگی پیدا کرنے، احتیاجات مٹانے اور تمام نسلوں اور قوموں کے مابین تعلقات میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے لئے ضروری ہوں۔‘‘[xv]

انسانی حقوق  کے بارے میں بہائی نقطہ نظر کی بنیاد یہ  تصور ہے کہ ہر فرد اصل میں ایک روحانی وجود ہے جسے اس کے خالق نے  ذہانت اور استعداد عطا کئے ہیں اور یہ کہ زندگی کا مقصد ان استعداد ات کو معاشرے اور اس کے ساتھ  متعلقہ فرد کو فائدہ پہنچانے کے لئے حاصل کرنا ہونا چاہئے۔ تمام انسانوں کے مساوی وقار اور ان کے درمیان  یکجہتی اور قانونی مساوات کی ضرورت کو مقدس بہائی تحریروں کے بہت سے صفحات پر واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔’’[xvi]  ان خیالات کو ‘‘وحدت عالم انسانی’’ کے تصور میں یکجا کر دیا  گیا ہے جسے وہ ’’مرکزہ‘‘ کہا جاتا ہے ’’جس کے گرد حضرت بہاءاللہ کی تمام تعلیمات گھومتی ہیں‘‘۔[xvii]

انسانی حقوق کے  مسئلے پربہائی اقدامات

انسانی حقوق کی ایک ثقافت کی ترویج میں بہائی سماج ایک فعال کردار ادا کرتا ہے۔  ۱۹۴۷میں  ’’انسانی  فرائض و حقوق کے بارے میں ایک بہائی اعلان‘‘ کو پیش کرنے کے بعد سے  انسانی حقوق کے مختلف پہلوؤں پربیسیوں بیانات  شایع کئے جاچکے ہیں۔ بہائی سماج عالمی سماج  کی زندگی کے ہر پہلو کو انسانی حقوق  سے جوڑنے کے لئے وقف ہے اور تعلیم و تربیت کو انسانی حقوق کی ترویج اور تحظ کا بنیادی ذریعہ مانتا ہے۔[xviii]

جنسی مساوات

جنسی مساوات  بنیادی بہائی تعلیات میں سے ایک ہےْ۔ بہائی عقیدہ یہ بیان کرتا ہے کہ جنسی مساوات ایک روحانی اور اخلاقی معیار ہے جو اس سیارے پر اتحاد پیدا ہونے اور امن کی تہہ کشائی کے لئے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ بہائی تعلیمات   انفرادی، خاندانی، اور سماجی زندگی میں اس اصول پر عمل کئے جانے کی اہمیت  بیان کرتی ہیں۔  بہائی انٹرنیشنل کمیونٹی نے جنسی مساوات اور خاص کر خواتین کے کردار پر مختلف بیانات جاری کئے ہیں جن میں زور دے کر کہا گیا ہے کہ بہائی تحریریں عورتوں اور مردوں کے لئے یکساں تعلیم و تربیت   اور عمومی و جبری تعلیم  کی تاکید کرتی ہیں  ، اور بچوں کی عمومی تعلیم و تربیت کو یقینی بنانے  کے سلسلے میں والدین  اور بہائی اداروں کی  ذمہ داری  کی وضاحت کرتی ہیں۔   در حقیقت یہ کہا گیا ہے کہ اگر والدین  لڑکے اور لڑکی دونوں کو تعلیم دینے سے قاصر ہوں تو لڑکی کو ترجیح دینی چاہئے کیونکہ وہ مستقبل میں بچوں کی ماں اور پہلی معلم  ہو گی۔

بہائی تحریریں  کہتی ہیں کہ ’’عالم انسانی کے دو پنکھ ہوتے ہیں یعنی مرد اور عورت۔ جب تک یہ دو بازو قوت میں برابر نہ ہوں پرندہ .نہیں اُڑے گا۔ جب تک عورتیں اسی درجہ پر نہیں پہنچ جاتیں جہاں مرد ہیں، جب کہ وہ فعالیت کے یکساں میدان نہیں پا تیں ، نوع بشر کے لئے غیر معمولی کامیابی حاصل نہیں کی جا سکے گی؛ نوع بشر حقیقی ترقی کی بلندیوں تک نہیں پہنچ سکے گی۔’’[xix]

غربت کا خاتمہ اور خوشحالی پر تجدید نظر

۲۰۰۸میں جاری کرہ ایک بیان میں جو ‘‘غربت کا خاتمہ: واحد کے طور پر آگے بڑھنا’’[xx] کے عنوان سے شائع کیا گیا ، بہائی انٹر نیشنل کمیونٹی نے غربت مٹانے کے میدان میں کوششوں کے لئے  دو رہنما اصول پیش کئے: انصاف اور اتحاد۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان اصولوں کی تہہ میں ترقی کا ایک تصور ہے جس میں مادی ترقی نوع بشر کی اخلاقی اور ثقافتی ترقی کے ایک وسیلہ کے طور پر کام کرتی ہے۔ انصاف، قوانین پر  عملدرامد کے ذریعے ہمارے درمیان سے غربت کو مٹانے کے لئے انسانی صلاحیتوں کو کنٹرول کرنے ،معاشی نظام کو سلجھانے، دولت اور مواقع کی از سرِ نو تقسیم کے، اور ذاتی اور عوامی زندگی میں اعلیٰ اخلاقی قدروں کی پابندی کے  قابل ذرائع فراہم کرتا ہے۔ اتحاد یہ یقینی بناتا ہے کہ  منظم اور منطقی انداز میں ترقی ہو، تاکہ خاندانی اکائی اور مقامی، ملی، اور عالمی سماج کی یکجہتی غربت مٹانے کی کوششوں کی رہنمائی کرے۔

[i] یونیورسل ڈکلیریشن آف ہیومن رائٹس (۱۹۴۸)

[ii] یوایس بہئی پبلشنگ ٹرسٹ، ۱۹۸۲ سیکنڈ ایڈیشن، صفحہ ۱۸۲ حضرت عبدالبہاء، پراملگیشن آف یونیورسل پیس،

[iii] برین لیپرڈ،‘‘اے پرسپکٹیو آن انٹرنیشل ہیومین رائٹس لاز’’، یونیورسٹی آف ببراسکا، جکسٹا پبلشنگ ۲۰۱۲۔صفحہ ۳

[iv] ایضاً،،صفحہ ۱۰

[v] حضرت بہاءاللہ، گلینگز فرام دی رائٹنگز آف بہاءاللہ، صفحہ۲۴۷

[vi] برین لیپارڈ،‘‘اے بہائی پرسپکٹیو آن انٹرنیشنل ہیومین رائیٹس لاز، یونیورسٹی آف ببراسکا، جکسٹا پبلشنگ ۲۰۱۲۔صفحہ ۱۰

[vii] حضرت بہاءاللہ، گلینگز فرام دی رائٹنگز آف بہاءاللہ، صفحہ ۲۸۸

[viii] ایضاً،صفحہ ۲۸۶

[ix] برین لیپارڈ،‘‘اے بہائی پرسپکٹیو آن انٹرنیشنل ہیومین رائیٹس لاز، یونیورسٹی آف ببراسکا، جکسٹا پبلشنگ ۲۰۱۲۔صفحہ ۱۰

[x] https://www.bic.org/statements/bahai-declaration-human-obligations-and-rights

[xi] ڈاکٹر البرٹ لنکن، ‘‘بہائی انسپائرڈ پرسپکٹیو آن ہیومیں رائٹس’’، صفحہ ۷،.http://juxta.com/wp-content/uploads/humanrights-electronic-1.2.pdf۔

[http://www.hrc.co.nz [xii.

[xiii] حضرت بہاءاللہ، گلینگز فرام دی رائٹنگز آف بہاءاللہ، صفحہ۲۴۷

[xiii] حضرت  عبدلبہاء، دی پراملگیشن آف یونیورسل پیس،یوایس بہائی پبلشنگ ٹرسٹ، ۱۹۸۲ سیکنڈ ایڈیشن، صفحہ ۳۱۸

[xv] شوقی آفندی،اقوام کو دعوت فکر، نظرثانی شدہ ترجمہ۔ صفحہ ۹۱

[xvi] ڈاکٹر البرٹ لنکن، ‘‘بہائی انسپائرڈ پرسپکٹیو آن ہیومین رائٹس http://juxta.com/wp-content/uploads/humanrights-electronic-1.2.pdf

[xvii] شوقی آفندی، دی ورلڈ آرڈر آف بہاءاللہ، یو ایس بہائی پبلشنگ ٹرسٹ، ۱۸۸۱ پہلا پاکٹ سائز ایڈیشن،صفحہ ۴۳

[http://juxta.com/wp-content/uploads/humanrights-electronic-1.2.pdf [xviii.

 [Peace [xix ،کمپائلڈ بائی دی رسرچ ڈپارٹمنت آف دی یونیورسل ہاؤص آف جسٹس، بہائی ورلڈ سنٹر،اگسٹ ۱۹۸۵۔ صفحہ ۴۰

[Eradication of Poverty: Moving as One [xx

∞∞∞∞∞

ترجمہ: شمشیر علی

اس مضمون میں ظاہر کردہ خیالات ونظریات مصنف کے ذاتی خیالات  ونظریات ہیں۔ ان سے ’افکارِ تازہ‘ یا کسی بہائی ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

رائے دیں: