اجنبی سے خطرہ: غیر ملکی

posted in: ثقافت | 0

انجبیوں کو خوش کرنے سے غافل نہ رہو، کیونکہ کچھ لوگوں نے بے خبری میں فرشتوں کو خوش کیا ہے۔ (عبرانی 13:2)

اگر آدمی اجنبیوں کے لئے مہربان اور خوش اخلاق ہے، تو یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ ایک عالمی شہری ہے، اور یہ کہ اس کا دل کوئی جزیرہ نہیں جو دوسری زمینوں سے کٹا ہوا ہو، بلکہ ایک براعظم ہے جو انہیں جوڑتا ہے۔ (فرانسس بیکن)

۔۔۔ پورے نوع بشر کوشجرِوجود کے پتوں اور پھولوں اور پھلوں کی طرح دیکھو۔ انہیں تمام وقتوں میں اپنے ساتھیوں میں سے کسی کو اپنی محبت، مروت اور پر فکرمدد پیش کرتے ہوئے کسی کے لئے کوئی مہربانی کا کام کرنے کے فکر میں رہنا چاہئے۔ انہیں کسی کو اپنے دشمن یا اپنےبدخواہ کے طور پرنہیں دیکھنا چاہئے، بلکہ غیر ملکی کو ایک دلی دوست خیال کرتے ہوئے، اجنبی کو ایک ساتھی کی طرح سمجھتے ہوئے، تعصب سے آزاد رہتے ہوئے، کوئی لکیریں نہ کھینچتے ہوئے پورے نوع بشر کو اپنے دوست کے طور پر سمجھنا چاہئے۔

(حضرت عبدالبہاء، سلیکشن فرام دی رائٹنگز آف عبدالبہاء، صفحات1-2)

میں جانتا ہوں کہ ایک والد، والدہ یا ایک بچے کے طور پر آپ نے یہ فقرہ سنا ہے: ’’ اجنبیوں سے ہرگز بات نہ کرنا۔‘‘  بچپن میں بھی اس فقرے کی حکمت پر سوال اٹھاتا تھا۔ مجھے یاد ہے میں اپنی امی سے کہا کرتا تھا: ’’ میں میں جن لوگوں کو نہیں جانتا ان سے میں کبھی گفتگو نہ کروں تو کیا میں کبھی کسی نئے آدمی سے مل پاؤں گا؟‘‘

پس آئیے ہم  ایک لمحہ لفظ ’’اجنبی‘‘ پرغورکرتے ہیں۔اس  کا انگریزی معنی’’strangerَ‘‘ ہے۔ لفظ اسٹرینجر یا اجنبی کا لغوی معنی ہے ’’غیرملکی، باہر کا، خار جی وغیرہ۔ فارسی وغیرہ میں بھی اس  لفظ کو انہیں معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔

جن دنوں یہ الفاظ عام استعمال میں آئے،  انسان بنیادی طور پر قبائلی گروہوں ، شہری ریاست والی سلطنتوں اورچھوٹی چھوٹی بادشاہتوں میں زندگی بسر کرتا تھا۔ دنیا میں محض چند میلین لوگوں کی آبادی تھی؛ بیشتر لوگ پیدل سفر کیا کرتے تھے اوراپنی جائے پیدائش سے بہت زیادہ دورکبھی نہیں جاتے تھے؛ مقامی اور علاقائی سطح کی جنگیں لڑی جاتی تھیں؛   لوٹ مار اور غارتگری کرنے والے ڈاکو اور جرائم پیشہ لوگ عام تھے؛  خوفناک اورمہلک وباؤںمثلاً طاعون کا کوئی علاج موجود نہیں تھا؛ اور اگر آپ کسی اجنبی کو دیکھتے  تو فوراً یہ خیال آتا کہ اس کی موجودگی آپ کو کوئی نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اجنبیوں پر اعتماد نہ کرنے کی یہ انسانی جبلت کا ازمنۂ قبل از تاریخ کے لوگوں کے لئے شاید کوئی  عقل میں آنے والی بات ہو، اور  شاید یہ مضبوط ہو گیا اور جیسا کہ ارتقائی ماہرین حیاتیات کہتے ہیں ا س وقت تک رہے گا جب تک ’’دوسرے‘‘ ایک خطرہ بنتے رہتے ہیں۔

تاہم  آج  خودکار طور پر عدم اعتماد کرنے،  ان سے بچنے اور انہیں بدنام کرنےکی وہ گہری انسانی جبلت  ناقص ہوگئی ہے۔  یہ ہماری اجتماعی ترقی کو مدد دینے کی بجائے اس میں رکاوٹ ڈالتی ہے۔ جب ہم چھوٹے گروہوں اور گوٹھوں میں رہتے تھے، اجنبی اکثرشکوک و شبہات اور خوف کا جواز ہوسکتے تھے لیکن آج ،  بڑی حد تک انسانوں کے بنائے ہوئے، بھرے پرے،  شہری رنگ میں رنگی ہوئی دنیا میں وہ جبلت خود ہمارے خلاف کام کرتی ہے کیونکہ وہ ایک دوسروں سے دور رکھتی ہے، اورامن،اتحاد اور ہم آہنگی کے لئے ہماری امیدوں پر پانی پھیرتی ہے۔ اس کے بجائے، ہماری پرانی قبائلی جبلتیں اور وفاداریاں اب  بے ایمان سیاسی اور مذہبی قائدین کے ہاتھوں کے اوزار بن گئے ہیں جو خود اپنی ذاتی مفادات کے لئے عقاید، قومیتوں،علاقائیت اور نسلیت یا سیاسی نظریات کو ایک دوسرے کے خلاف  مورچہ بند کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ایسااکثرترک وطن کے متنازعہ، گروہوں میں تقسیم کرنے والے موضوع کے ساتھ ہوتا ہے۔

لیکن دنیا بھر میں کئی ممالک میں کامیابی نے کافی حدتک دکھایا ہے کہ ترک وطن کسی قوم کی قوت، اہتزاز اور معاشی قائم پذیری کو مثبت فائدہ پہنچا سکتی ہے۔  اس احساس نے بہت سی قوموں  اور علاقوں کو اپنی امیگریشن پالیسوں پر از سر نوع سوچنے اور  تارکین وطن  اور پناہ گزینوں کا استقبال کرنے پر آمادہ کیا ہے۔ انہوں نے یہ سمجھنا شروع کردیا ہے کہ ایک رکاوٹ ہونے کے بر عکس یہ تنوع توثقافتی زندگی کی اعانت کرتی ہے، سوچنے کے اختراعی نئے طریقوں کی حوصلہ افزائی  کرتی ہے،  جین پول کی اصلاح کرتی  ہے اور سب کے لئے نئے تصورات اور ایجادات لاتی ہے۔ بالکل  حیاتیانی تنوع کی طرح ہی  جو عالم فطرت کو صحتمند اور فائدہ مند بناتی ہے،  ثقافتی اور نسلی تنوع  تہذیب وتمدن کو طاقت بخشتی ہے اور  بالآخر ہمکارانہ ترقی اورخوشحالی کو مدد پہنچاتی ہے۔

بہائی تناظر میں، اجنبی  امتیازی طور پر خطرے کی نمائندگی نہیں کرتے بلکہ وہ اتحاد اور امن کی اصل بنیاد کی نمائندگی کرتے ہیں۔ بہائی تعلیمات ہر ایک کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں کہ وہ اجنبیوں کو دوست سمجھیں:

جب تم کسی اجنبی سے ملوتو کہو،’’ وہاں میری طرف  خدا کا بھیجا ہوا ایک خط آرہا ہے۔‘‘ اس خط کا بیرونی لفافہ ہو سکتا ہے کہ میلا کچیلا، اور پھٹاہوا اور مڑا تڑا ہوا ہے، لیکن اگر ہم زندگی کے لفافے کو کھول سکتے جو ہمارے سامنے آتا ہے اور لفافے کے اندر دیکھتے اور لکھائی کو پڑھنا سیکھتے، تو ہم ہر انسانی روح میں ، جو ہمارے درواز کو پار کرتا ہےیا جو انسان کی بنائی ہوئی قومی سرحد کے پار ہے ،تو خدا کے پاس سے ایک پیغام دیکھتے، اور اگر اس پیغام کو سمجھ سکتے تووہ ہمارے لئے خدا کی ایک برکت ہوتی۔ آج نوع بشر کے لئے صرف ایک امید ہے اور وہ تمام انسانی وجودوں کو ایک ہی ملکوتی سورج کی کرنوں کی طرح دیکھنا ہے جو خدا ہے، ایک ہی سمندر کے موتی کی طرح جو خدا ہے، ایک ہی باغ کے پھول جس کا باغبان خدا ہے، اور سب کو امکانی طور پرایک ہی سورج کی روشنی  دیکھنا  جو پھیلائی جائے گی، ایک ہی سمندر کی موجیں جو دنیا پر ابل پڑیں گی۔ دھرتی پر امن کی بنیاد یہ ہے۔۔۔

(حضرت عبدالبہاء، اسٹار آف دی ویسٹ، جلد 6، صفحہ 46)

اگلی بار جب آپ کا کسی ایسے شخص سے سامنا ہو جس سے آپ پہلے کبھی نہ ملے ہوں اور خصوصاً اگر وہ کسی دوسرے ملک یا ثقافت سے ہوں تو کوشش کریں کہ اپنی فوری جبلت سے آگے جائیں اور ان سے دوستوں کی طرح سلوک کریں نہ کہ ایک اجنبی کی طرح۔ خود کو متعارف کروائیں، دوستی کا ہاتھ بڑھائیں اور ان  کو جاننے کی کوشش کریں۔ ان کا گرمجوشی سے استقبال کرنے کی ایک کوشش کریں اور بہت  ممکن ہے کہ ان کے مثبت جواب سے آپ حیران رہ جائیں گے۔  بہرحال، جب ہم میں سے کو ایک مختلف ثقافت یا قوم  کی طرف سفر کرتا ہے تو کیا ہم بھی اپنے لئے یہی پسند نہیں کریں گے کہ کوئی ہمارے ساتھ یہی بر تاؤ کرے؟

دوسروں سے اس طرح کی محبت اور مہربانی پردیسی پن کی رکاوٹوں کو کم کردیتی ہے، اجبنیوں کے درمیان  ٹھیٹھ شکوک و شبہات مٹا ڈالتی ہے،  امن و سوجھ بوجھ کے پُل تعمیر کرتی ہے، اور نوع بشر کو اتحاد کے دائرے میں لانے کی طرف ایک اور مثبت قدم اٹھاتی ہے:

’’خداوند کے مشوروں کے مطابق عمل کرو: یعنی، اس طرح سے اورایسی صفات کے ساتھ قیام کرو  جودنیا کےجسم کوایک زندہ روح بخش دے، اور اس جواں سال بچے یعنی انسانیت کو بلوغ کے مرحلہ تک پہنچا دے۔ جب تک تم اس قابل ہو،ہرجلسہ میں محبت کا ایک دیاجلاؤ،اورملائمت سے ہردل کوشاداور خوش کرو۔ جیسا کہ تم  اپنوں میں سے کسی کے ساتھ کرتے ہو اجنبی کا خیال رکھو؛غیرملکی نفوس کووہی پیاربھری مہربانی دکھاؤجوتم اپنےباوفا دوستوں پرنچھاورکرتے ہو۔‘‘

(حضرت عبدالبہاء، سلیکشن فرام دی رائٹنگزآف عبدالبہاء، صفحہ43)

’’اپنی پوری کوشش اس لئے ہو، ہرانسانی روح کے لئےزندگی اور لافانیت، اورامن اور آسودگی  اور خوشی کاذریعہ ہونے کے لئے، چاہے  وہ تمہارا شناسا ہو یا اجنبی، تمہاری مخالفت کرتا ہو یا تمہارا طرفدار ہو۔ تم اس کی فطرت کی پاکی یا ناپاکی کو مت دیکھو: تم خدا کی سب پر محیط رحمت کو دیکھو، جس کے فضل کی روشنی نے پوری دھرتی اور اس کے سب باشندوں کو گھیر رکھا ہے،اورجس کی سخاوت  کی اکملیت میں دانا و نادان دونوں ہی ڈوبے ہوئے ہیں۔اس کی شفقت کی میز پراجنبی اوردوست دونوں ہی یکساں بیٹھے ہوئے ہیں۔‘‘

(حضرت عبدالبہاء، ایضاً ، صفحات 257-258)

∞∞∞∞∞

تحریر: ڈیوڈ لیگنس؛ ترجمہ: شمشیر علی

اس مضمون میں ظاہر کردہ خیالات ونظریات مصنف کے ذاتی خیالات  ونظریات ہیں۔ ان سے ’افکارِ تازہ‘ یا کسی بہائی ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

رائے دیں: