شہریت اور پیدائش کی لاٹری

posted in: ثقافت | 0

ایمانداری،شائستگی،وفاداری اوردوستی۔۔۔لازم ہے کہ صرف اسی وقت دکھائی جائے جب آپ اپنے جیسےخون سے معاملہ کر رہے ہوں لیکن کسی دوسرے کے لئے نہیں۔ کسی روسی یا کسی چیچنیائی پر کیا بیت رہی ہے اس میں مجھے ایک زرّہ برابر دلچسپی نہیں۔۔۔ خواہ قومیں خوشحال ہوں یا بھوک سے ڈھور ڈنگر کی طرح مررہی ہوں اس میں مجھے صرف اتنی ہی دلچسپی ہے جب تک ہمیں اپنی ثقافت کے لئے غلاموں کی ضرورت ہے۔۔۔ خواہ ۱۰۰۰۰ روسی عورتیں ایک اینٹی ٹینک مورچہ کھودتے کھودتے تھکاوٹ سے مر جائیں مجھے اس میں اسی حد تک دلچسپی ہے جب تک جرمنی کے لئے اینٹی ٹینک مورچے کھودے جا چکے ہوں۔

(ہینرچ ہملر، جرمن کی جمہوری حکومت کے نازی ایس ایس کا لیڈر)

ہِملر اورہٹلرکی فاسسٹ مطلق العنان ریاست اور اس کی حد سے متجاوزقوم پرستانہ سفّاکیت کوبڑی حد تک جامع طورپربیان کرنے والے اس دہشتناک حوالےکو پڑھ کر مجھے اسجرمن بحری جہاز ایم ایس سینٹ لوئیس کی یاد آگئی جو اٹلانٹک پار کرتے ہوئے اُن ۹۰۸یہودی پناہ گزینوں کے لئےگھر تلاش کررہا تھا جو۱۹۳۹میں نازیوں سے فرار ہو رہے تھے۔
یہ ایک مسحور کُن کہانی ہے جو بعد میں ایک کتاب اور ایک ہالی ووڈ فلم ’’ Voyage of the Damned ‘‘ کا موضوع بنی۔ عنوان سے ہی شائد آپ یہ اندازہ لگا لیں کہ کیا ہواتھا۔

گسٹاو شاچر
گسٹاو شاچر

اس بحری جہازکا کیپٹن ایک بہادرغیر یہودی جرمن گسٹاو شروڈر(Gustav Schröder)تھا جو اپنی جہاز کو لے کر کیوبا پہنچا، پھر فلوریڈا، اور آخرکارکینیڈا کی طرف۔ امریکا میں کوئی قوم بھی ان پناہ گزینوں کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوئی۔ آخرکارشروڈرکو واپس یورپ کی جانب جانا پڑگیا جہاں اُس جہاز کے سینکڑوں یہودی مسافربعد میں عقوبتی کیمپوں میں مَرگئے۔ ہم انہیں بچا سکتے تھے!

ہم نے انہیں تعصب اور یہود دشمنی اورتارکین وطن کے خلاف سخت تعصب کی وجہ سے نہیں بچایا۔ ہرملک میں تارکین وطن مخالف سیاسی قوتیں غالب تھیں۔

ایک سال قبل، ۱۹۳۸میں، جب یہودی لوگ اوربہت سارے دوسری مظلوم اقلیتیں ہزاروں کی تعداد میں نازی جرمنی سے فرار ہورہے تھے، انگلینڈ کے ڈیلی میل اخبار نے ایک شرمناک، خوفناک پہلے صفحہ کی سُرخی لگائی: ’’بے ریاست یہودی ملک میں داخل ہورہے ہیں۔‘‘

اُس زمانے کےتارکین وطن مخالف سیاستدان اپنے اپنے حلقوں کو مطمئن کرنے دوڑپڑے کہ وہ اپنی نظروں کے سامنے ایسی کسی چیز کی اجازت نہیں دیں گے۔ ریاست ہائے متحدہ اور دوسرے کئی جنوبی امریکی اور یورپین قوموں نے پہلے یہودیوں کو پناہ دینے سے انکار کردیا تھا اور نازی مظالم اورقتل سے باخبر ہونےکے باوجود وہ ایسا کرنا جاری رکھنے والے تھے۔
لوگوں کو بچانے سے انکارہماری حالیہ تاریخ کا ایک شرمناک باب ہے۔ ڈر یہ ہے کہ یہ تاریخ اب پھرسے خود کو دوہرانے والی ہے۔ ایلان کُردی، ایک تین سالہ شامی بچے کی ڈوبی ہوئی لاش کی ایک تصویرنے دنیا کواس حقیقت کے آمنے سامنے لاکھڑا کیا ہے۔
چونکہ عراق، شام اور لیبیا جیسے جنگ زدہ اورغیرمستحکم ممالک سے پناہ کی تلاش میں لوگ بھاگ رہے ہیں، یورپ میں ایک بہت بڑا پناہ گزین بحران پیدا ہوگیا ہے۔ چونکہ تارکین وطن اورپناہ گزین، جن میں بہت سارے بچے ہیں، وسط امریکی ریاستوں کے خطرناک حتیٰ کہ قاتلانہ صورتحال سے فرار ہوکرپناہ کے لئے ریاست ہائے متحدہ کی طرف آرہے ہیں اورریاست ہائے متحدہ میں بھی ویساہی ہوا ہے۔ وسط افریقائی ممالک ، افغانستان، شمالی کوریا اوردنیاکےدیگرمصیبت زدہ مقامات سے پناہ گزین جان کی پروا نہ کرتے ہوئے اُن مشکل حالات سے چھٹکارا حاصل کرنے کی خاطرپناہ تلاش کرتے ہیں جن کا انہیں خوداپنے ملکوں میں سامناہے لیکن انہیں پناہ کی کارآمد متبادل کم ہی حاصل ہے۔
اقوام متحد کی کمیشن برائے پناہ گزین (UNHCR)کے مطابق ۲۰۱۴کے اختتام پرکوئی ۲۰ میلین لوگ پناہ کی تلاش میں بھاگ رہے تھے؛ اور دنیا کی آبادی کی ۳ فیصد اب پناہ گزین ہیں۔ لاچارلوگوں کا اس بڑے پیمانے پر آنا جانا بہت سارے بھاری اورپریشان کن سوالات پیدا کردیتا ہے: ایک شہری ہونے کا کیا مطلب ہے؟ کیا آپ اپنے ملک کے ایک شہری کے طور پر اپنے کردار میں محفوظ محسوس کرتے ہیں؟ اگرآپ جس ملک میں رہتے ہیں وہ زوال پذیر ہونے لگے، اسے بدعنوانی، عدم استحکام اور جنگ کا سامنا ہو تو کیا؟ اگرآپ کے پاس کوئی کام نہ ہو، کوئی آمدنی نہ ہو، اپنے بچوں کو کھِلانے پِلانےکی کوئی سبیل نہ ہوتوکیا؟ اگرکوئی دوسرا مُلک، زیادہ طاقتور مُلک آپ کے ملک میں داخل ہوجائے، آپ کی حکومت کو نکال باہر کرے اور اسے ایک ایسی حکومت سے بدل دے جو آپ کی حفاظت نہیں کرتی یا آپ کے انسانی حقوق کا احترام نہیں کرتی تو کیا؟ تب آپ کیا کریں گے؟ اگرحالات اتنے بگڑجائیں کہ آپ کو ہر روز اپنی زندگی خطرے میں نظرآئے توکیا ہو؟
ہماری شہریت خواہ کوئی بھی ہو ہم میں سے بیشتراس طرح کی بدبختی کو چھوڑ دینے کی کوشش کرتا۔ ہم اپنے گھرانوں کو ساتھ لیتے اورسرحد پار کر جاتے اورکسی ایسی جگہ کی تلاش کرتے جہاں ہمیں کچھ تحفظ اور امن نصیب ہوتا۔ اگر حالت اس قدر نہ سدھرتے کہ ہم واپس ہو سکیں توہم رضاکارانہ طور پراپنے سابقہ ملک کی شہریت ترک کرکے اپنے نئے قوم کی شہریت حاصل کرنے کی کوشش کرتے بشرطیکہ کہ ہم بہت قسمت والے ہوتے اور وہ نئی قوم ہمیں قبول کرنے پر رضامند ہوتی۔
یہی بے پناہ غیرمنصفانہ اورپوری طرح من مانی شہریت و پیدائش کی لاٹری آجکل کسی اور واحد عنصر سے بڑھ کریہ تعین کرتی ہے کہ کوئی فرد کس طرح زندہ رہے گا، اس سے کیسا سلوک کیا جائے گا،اسے کیسی تعلیم فراہم کی جائے گی، اوروہ اپنی زندگی کس طرح بسرکریگا یا کریگی۔ ہم میں سے وہ لوگ جویہ لاٹری جیت جاتے ہیں یعنی مستحکم، ترقی یافتہ جمہوریتوں کے شہری کے طور پر پیدا ہوتے ہیں یا جنہیں یہ ممالک تارکین وطن اورنیچرلائزڈ شہریوں کے طور پر قبول کرلیتی ہیں اُنہیں ایک اچھی زندگی بسر کرنے کا موقع ملتاہے، اُن مواقع سے زیادہ مواقع دستیاب ہوتے ہیں جو تاریخ کے کسی دور میں بھی انسان کو دستیاب تھے۔
ہم میں سے وہ جواس لاٹری میں ہار جاتے ہیں یعنی غیرمستحکم، کم ترقی یافتہ ممالک کے شہریوں کے طور پر پیدا ہوتے ہیں جہاں جنگ، بھوک، غربت اوربدعنوان حکومتیں ہیں وہ ایک بدبخت اورامید سے عاری زندگی گزارنے پرمجبورکردیئے جائیں گے یا پھروہاں سے فرار حاصل کرنے کی خاطراپنی زندگیوں کواسمگلروں اور انسانی سوداگروں کے ہاتھوں میں ڈال کر وہی اندیکھے خطرات مول لیں گے جن کا سامنا بیشتر تارکین وطن اور پناہ گزین کرتے ہیں۔
ترک وطن کی ماہراور مصنفہ آئی لیٹ شاچر(AyeletShachar) اپنی کتاب’’The Birthright Lotteryِْْ‘‘میں اس افسوسناک صورتحال کو’’موروثی سہولت‘‘ کہتی ہے یعنی ملکیت کی وراثت کی ایک قسم جوایک ایسا قیمتی استحقاق بن جاتا ہے جو قانون کے ذریعے وصول کنندہ گان کے ایک محدود گروپ اور ان کے ورثأ کومنتقل ہوتا ہے۔ وہ لکھتی ہے کہ قوموں کو اپنی رُکنیت کی سرحدوں کوشہریت کے پرانے، غیرمنصفانہ، فرسودہ قانونی نظریات سے پرےتک بڑھا دینا چاہئے۔
دیڑھ سوسال سے زیادہ عرصہ سے بہائی تعلیمات مسلسل یہ کہہ رہی ہیں کہ ان بنیادی ناانصافیوں کو لازماً رُک جانا چاہئے۔ کیسے؟ بہائیوں کا ماننا ہے کہ سب لوگوں کو عالمی شہریت کا بنیادی انسانی حق حاصل ہے:

عالمِ انسانی کی وحدت فتح کے پرچم کی جگہ لے لے گی اوردھرتی کی برادریاں اس کی حفاظت میں اکٹھی ہو جائیں گی۔ الگ اور ممنوعہ سرحدوں کے ساتھ کوئی قوم نہیں بچے گی مثلاًایران ۔ریاست ہائے متحدہ صرف ایک نام کے طور پر جاناجائے گا۔ جرمنی، فرانس، انگلینڈ، ترکی، عرب یہ سب مختلف قومیں اتحاد میں جوڑ دی جائیں گی۔جب مستقبل کے لوگوں سے پوچھا جائےگا، ‘‘آپ کس قومیت سے تعلق رکھتے ہیں؟’’ تو جواب ہوگا، ‘‘انسانیت کی قومیت سے۔۔۔’’ آئندہ کے لوگ یہ نہیں کہیں گے، ‘‘میراتعلق انگلینڈ ، فرانس یا ایران کی قوم سے ہے’’؛ کیونکہ وہ سب کے سب ایک آفاقی قومیت کے شہری ہوں گے یعنی ایک ہی خاندان، ایک ہی ملک، ایک عالمِ انسانیت اور تب یہ جنگیں، یہ نفرتیں اور یہ تنازعات ختم ہوجائیں گے۔

(حضرت عبدالبہاء، دی پراملگیشن آف یونیورسل پیس، صفحہ ۱۸)

شہریت کے بہت زیادہ پیچیدہ اورانتہائی اہم ہمعصرسوال پرمضامین کے اس سلسلے میں ہم قوانین پر نظر ڈالیں گے؛ قضیوں کا جائزہ لیں گے؛ معلوم کریں گے کہ بہائی تعلیمات اس کا کیا حل پیش کرتی ہیں؛ اوراس بات پر ایک گہری نظرڈالیں گے کہ جدید حوالے سے درحقیقت شہریت کا مطلب کیاہے۔

∞∞∞∞∞

تحریر: ڈیوڈلیگنس، ترجمہ: شمشیرعلی
سورس: BahaiTeachings.org
اس مضمون میں شامل خیالات ونظریات لکھاری کے ذاتی خیالات ونظریات ہیں۔ ان سے ’افکارتازہ‘ یا کسی بہائی ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

رائے دیں: